Sunday, 14 November 2021

جو ترے ساتھ میں کٹی ہی نہیں

جو تِرے ساتھ میں کٹی ہی نہیں

وہ مِرے یار! زندگی ہی نہیں

بُجھ گیا وہ دِیا محبت کا

دُور تک جیسے روشنی ہی نہیں

ہو گئی سب سفارشیں ناکام

پیروی عشق میں چلی ہی نہیں

بد گُمانی میں کہہ گیا ہو گا

ہم سے بڑھ کر تو آدمی ہی نہیں

رنج کی سلطنت میں زندہ ہوں

معجزہ ہے کہ سانس ہی نہیں

تُو گیا جب سے دل میں آنے کی

سن اجازت کسی کو دی ہی نہیں

کر گئی کُوچ تُو نے کیوں سوچا

میں تو دل سے تِرے گئی ہی نہیں

جام آنکھوں سے پی لیا اس نے

میکدے کی خبر تو لی ہی نہیں

اتنا تنہا وہ کر گیا روشن

تیرگی عُمر کی کھلی ہی نہیں


روشن صدیقی

No comments:

Post a Comment