دانشوری
تو کیا دانشوری
سُورج مُکھی کا پھُول ہوتی ہے
کہ جو بھی زیبِ منبر ہو
سریر آرائے مسند ہو
اُفق پر جو اُبھر آئے
اسی کی سمت ہم دیکھیں
سر تسلیم خم کر کے
مصاحب شہہ کے بن جائیں
تو کیا دانشوری
سورج مکھی کا پھول ہوتی ہے
سیاست کے افق کا جب
کوئی منظر بدل جائے
قیادت بھی نئی آئے
تو اس کے بعد یہ سوچیں
گزشتہ دور کیسا تھا
عوامی تھا کہ فسطائی
نراجی تھا کہ جمہوری
ہمارا حکمراں کیا تھا
ہمارا طور کیسا تھا
ہمارا طور کیسا تھا
گزشتہ دور کیسا تھا
تو کیا دانشوری
سورج مکھی کا پھول ہوتی ہے
سعدیہ روشن صدیقی
No comments:
Post a Comment