رات میں کوئی ہجر کا مارا جاگے ہے
یا کوئی قسمت سے ہارا جاگے ہے
میں جاگوں اک درد جو مجھ کو لاحق ہے
جانے کیوں یہ را ت کا تا را جاگے ہے
پنچھی، جگنو، پھول بھی اس کو ڈھونڈیں ہیں
اس کی یاد میں دشت بھی سارا جاگے ہے
درد کی چادر اوڑھ کے میں سوجاتا ہوں
لیکن مجھ میں ہجر تمہارا جاگے ہے
عاشر اس کو چھو کے ہم نے دیکھا ہے
اس کا مطلب لیکھ ہمارا جاگے ہے
عمران عاشر
No comments:
Post a Comment