کہ دوسروں کا نہ منظر بگاڑ کر جانا
نظارہ کرنا پر آنکھیں نہ گاڑ کر جانا
کسی نے رکنا نہیں پھول توڑنے سے مگر
تم اپنے باغ کے چو گِرد باڑ کر جانا
میں چاہتا ہوں وہ بے فکر ہو کے مجھ سے لڑے
مرے عدو کے عدو کو پچھاڑ کر جانا
بہار آئے نہ آئے دوبارہ گلشن میں
اب آ گئے ہو تو سب کچھ اجاڑ کر جانا
کہ اس نے سُر کوئی دریافت کرنے دینا نہیں
تُو دل کے تار مگر چھیڑ چھاڑ کر جانا
شاہد نواز
No comments:
Post a Comment