چوڑیاں توڑ لیں سہاگن نے
اور پھر لاش ہی بیاہی گئی
حشر میں خود کو بخشوانا تھا
ساتھ محراب کی سیاہی گئی
آپ سے تم جو کہہ رہے ہو مجھے
بات دل کی زباں پہ آ ہی گئی
جیسے عِدت میں عمر گزری ہو
زندگی اس طرح نباہی گئی
نام میرا تو نہ مٹا عاشر
دست سے آپ کے حنا ہی گئی
عمران عاشر
No comments:
Post a Comment