مطلبی سب دوستوں کو بھول جا
مشورہ ہے رابطوں کو بھول جا
میں تِرے نزدیک تر آ جاؤں گا
جانِ جاں تو فاصلوں کو بھول جا
دیکھنا آسان تر ہو جائیں گی
زندگی کی مشکلوں کو بھول جا
عمرِ رفتہ جا کے پھر آتی نہیں
عمر بھر کے آنسوؤں کو بھول جا
اب زمانہ وہ نہیں جانِ جہاں
سوچ اپنا دوسروں کو بھول جا
پیار روبی کرتے ہیں وہ بے پناہ
اب خدارا نفرتوں کو بھول جا
روبنسن روبی
No comments:
Post a Comment