مجھ کو غارت کرو
میں لُٹی، میں کٹی
میں مَری، میں جلی
میری کیڑے لگی لاش پر
مت سیاست کرو
اپنے ایوان یونہی سجاتے رہو
مجھ کو غارت کرو
میں تو تم جیسے بے شرم لوگوں سے
اپنے لہو کے عوض
خوں بہا بھی نہیں مانگتی
تم وہ سفاک ہو
خوں بہا کے کٹوروں میں بھی
بیٹیاں ڈال کر مسکراتے رہو
غیرتوں کے پھریرے اُڑاتے رہو
صائمہ اسحاق
No comments:
Post a Comment