Thursday, 11 November 2021

دم بدم ہم قدم سے ناچے ہیں

 دم بدم ہم قدم سے ناچے ہیں

دل کی دھڑکن میں غم سے ناچے ہیں

اس لیے ہارنے پہ بھی خوش ہیں

ہم تو اپنے ہی دم پہ ناچے ہیں

رقص آتا کہاں تھا آدم کو

یہ تو اس کے کرم سے ناچے ہیں

ہم تو ناچے ہیں عشق میں تیرے

مت سمجھنا ستم سے ناچے ہیں

کیا تجلی ہے عشق میں تیرے

ناتواں ایک دم سے ناچے ہیں


عمران عاشر

No comments:

Post a Comment