دم بدم ہم قدم سے ناچے ہیں
دل کی دھڑکن میں غم سے ناچے ہیں
اس لیے ہارنے پہ بھی خوش ہیں
ہم تو اپنے ہی دم پہ ناچے ہیں
رقص آتا کہاں تھا آدم کو
یہ تو اس کے کرم سے ناچے ہیں
ہم تو ناچے ہیں عشق میں تیرے
مت سمجھنا ستم سے ناچے ہیں
کیا تجلی ہے عشق میں تیرے
ناتواں ایک دم سے ناچے ہیں
عمران عاشر
No comments:
Post a Comment