زندگی کا نصاب ہو جائیں
ہم تِرے ہمرکاب ہو جائیں
تُو جسے شوق سے پڑھے دن رات
کاش ہم وہ کتاب ہو جائیں
تیرے ہاتھوں کا لمس پاتے ہی
سارے کانٹے گلاب ہو جائیں
تیرے جلوؤں کی دھوپ نکلے تو
جھیل آنکھیں سراب ہو جائیں
ان کی پلکوں پہ جو گریں آنسو
میرے دل پر حباب ہو جائیں
کس نے کی ہے وفا، جفا کس نے
آؤ سارے حساب ہو جائیں
مست آنکھیں کریں سوال شعیب
ہم سراپا جواب ہو جائیں
شعیب مظہر
No comments:
Post a Comment