Thursday, 11 November 2021

وہ ایک شخص کہ جو آفتاب جیسا ہے

 وہ ایک شخص کہ جو آفتاب جیسا ہے

قریب آئے تو تازہ گلاب جیسا ہے

خدا کرے کہ کبھی بھی نہ ٹوٹنے پائے

یہ تیرا میرا ملن ایک خواب جیسا ہے

ذرا بھی تیز ہوا ہو تو کانپ اٹھتا ہے

وہ خوش جمال تو شاخِ گلاب جیسا ہے

کچھ ایسے لگتا ہے جیسے گزر گئیں صدیاں

تِری جدائی کا موسم عذاب جیسا ہے

سمے کے تیز بگولوں کی زد میں ٹھہرا ہوں

مِرے وجود کا دریا حباب جیسا ہے

تِری جبیں پہ عبارت ہے دین عشق نیاز

تِرا وجود مقدس کتاب جیسا ہے


نیاز حسین لکھویرا

No comments:

Post a Comment