Thursday, 11 November 2021

دھوپ کی ٹھوکر رہ جاتی ہے

 دھوپ کی ٹھوکر


نیند میں چلتے چلتے یک دم

گر جاتے ہیں

اودے پھول شٹالے کے

بیر بہوٹی ساون کی

دور افق پر

ارض و سما کو جوڑنے والی

مدھم لائن

اور اسے چھونے کی دھن میں

ننھے نرم گلابی پاؤں

سانول شام پڑے کا منظر

پھیلا چاند سمندر

سارا بچپن گر جاتا ہے

دھوپ کی ٹھوکر رہ جاتی ہے


پروین طاہر

No comments:

Post a Comment