Thursday, 11 November 2021

درد کی آنکھ کو سالار کیا ہے اس نے

 درد کی آنکھ کو سالار کیا ہے اُس نے

فیصلہ یہ بھی سرِ دار کیا ہے اس نے

پہلے لُوٹا مِرا ایمان، مِرا پاسِ وفا

پھر مِرے عشق کو پتوار کیا ہے اس نے

اپنی سانسوں سے چراغوں کو بجھایا جس نے

خاورِ شب کا ہی اعتبار کیا ہے اس نے

میری سوچوں کے دریچوں پہ لگا کر پہرے

اشہبِ فکر کو دلدار کیا ہے اس نے

میری الفت کو مِرے سامنے پسپا کر کے

اپنی چاہت کا بھی انکار کیا ہے اس نے


ایم زیڈ کنول

No comments:

Post a Comment