درد کی آنکھ کو سالار کیا ہے اُس نے
فیصلہ یہ بھی سرِ دار کیا ہے اس نے
پہلے لُوٹا مِرا ایمان، مِرا پاسِ وفا
پھر مِرے عشق کو پتوار کیا ہے اس نے
اپنی سانسوں سے چراغوں کو بجھایا جس نے
خاورِ شب کا ہی اعتبار کیا ہے اس نے
میری سوچوں کے دریچوں پہ لگا کر پہرے
اشہبِ فکر کو دلدار کیا ہے اس نے
میری الفت کو مِرے سامنے پسپا کر کے
اپنی چاہت کا بھی انکار کیا ہے اس نے
ایم زیڈ کنول
No comments:
Post a Comment