عورت
تیری ہستی ہے زمانے کے لیے مشعلِ راہ
تیرے قدموں کے تلے جنتِ فردوس بھی ہے
زندگی تیرے لیے عظمتِ معراج بھی ہے
آنکھ میں نُور تو رنگوں میں حیا باقی ہے
تِیرہ ذہنوں کے لیے تیری جِلا باقی ہے
تجھ سے قائم ہے زمانے میں محبت کا چلن
دستِ قاتل بھی ہے تیرے سامنے لرزاں لرزاں
تُو نے منزل کو تراشا ہے جواں ہمت سے
ڈٹ گئی راہ میں ہمیشہ تُو چٹانوں کی طرح
تیرا ہر روپ وفا،۔ عزت و ناموس بقاء
پھر بھی ہر دور میں مردوں کی اطاعت کی ہے
تُو نے اس طرح بھی دنیا میں عبادت کی ہے
فرخ زہرا گیلانی
No comments:
Post a Comment