تیز پانی کے بہاؤ سا رہا
یوں تِری جانب کھچاؤ سا رہا
تیرا چہرہ ڈھونڈنا ہر شعر میں
یوں غزل سے اک لگاؤ سا رہا
مجھ سے بچھڑا جب کوئی تیرا خیال
میری سوچوں میں تناؤ سا رہا
پیار واپس کر دیا مانگا ہوا
پھر کہاں وہ رکھ رکھاؤ سا رہا
فیصلے کرنے پڑے اپنے خلاف
آپ کی جانب جھکاؤ سا رہا
جب تلک تم سے نہ ہو پائی تھی بات
تب تلک دل پر دباؤ سا رہا
دل لگا کر دل نہ لگتا تھا مِرا
اک طبیعت میں کھچاؤ سا رہا
بوجھ سے میری کمر جھکتی گئی
آپ کے قد میں اٹھاؤ سا رہا
اس طرف کی سرد مہری میں یہاں
پیار کا جلتا الاؤ سا رہا
آپ نے عمران کیا چھوڑا مجھے
ساری دنیا سے کٹاؤ سا رہا
عمران سرگانی
No comments:
Post a Comment