کیا سبب ڈھونڈتے پھرتے ہو پریشانی کا
یہی انجام ہے اک خواب کی ویرانی کا
تم سے کیا شکوہ کہ ناکام تو ہونا تھا ہمیں
رنج ہے ہم کو بہت زخم کی ارزانی کا
اک تعلق ہے اسے چھوڑ کے ہم جائیں کہاں
عمر کے ساتھ ہے یہ سلسلہ نادانی کا
جس نے دیکھا، اسے وحشت نے نہ چھوڑا تاعمر
کیا جنوں خیز تھا موسم تِری حیرانی کا
اپنے حالات سنور جائیں تو ہم بھی عامر
حال پوچھیں گے کسی درد کے زندانی کا
اشفاق عامر
No comments:
Post a Comment