Tuesday, 23 March 2021

کیا سبب ڈھونڈتے پھرتے ہو پریشانی کا

 کیا سبب ڈھونڈتے پھرتے ہو پریشانی کا

یہی انجام ہے اک خواب کی ویرانی کا

تم سے کیا شکوہ کہ ناکام تو ہونا تھا ہمیں

رنج ہے ہم کو بہت زخم کی ارزانی کا

اک تعلق ہے اسے چھوڑ کے ہم جائیں کہاں

عمر کے ساتھ ہے یہ سلسلہ نادانی کا

جس نے دیکھا، اسے وحشت نے نہ چھوڑا تاعمر

کیا جنوں خیز تھا موسم تِری حیرانی کا

اپنے حالات سنور جائیں تو ہم بھی عامر

حال پوچھیں گے کسی درد کے زندانی کا


اشفاق عامر

No comments:

Post a Comment