Tuesday, 23 March 2021

آب کی تاثیر میں ہوں پیاس کی شدت میں ہوں

 آب کی تاثیر میں ہوں پیاس کی شدت میں ہوں

ابر کا سایہ ہوں لیکن دشت کی وسعت میں ہوں

یوں تو اپنا لگ رہا ہے جسم کا یہ گھر مجھے

روح لیکن کہہ رہی ہے دیکھ میں غربت میں ہوں

اور تو اپنی خبر ہے سب مجھے اس کے سوا

کون ہوں کیوں ہوں کہاں ہوں اور کس حالت میں ہوں

یاد بھی آتا نہیں کچھ، بھُولتا بھی کچھ نہیں

یا بہت مصروف ہوں میں یا بہت فُرصت میں ہوں

میں ہوا بیدار تو ہر شخص یہ کہنے لگا

نیند میں ہوں خواب میں ہوں یا کسی غفلت میں ہوں

زندگی نے کیا دیا تھا، موت نے کیا لے لیا

خاک سے پیدا ہوا تھا خاک کی صحبت میں ہوں


بھارت بھوشن پنت

No comments:

Post a Comment