Tuesday, 23 March 2021

مفلس وقت کے حالات سمجھ

 مفلسِ وقت کے حالات سمجھ

میں اکیلا ہوں میری بات سمجھ

دل، جگر روح عشق نے پُھونکی

جسم کو میری باقیات سمجھ

وہ اکیلا تھا ذات میں اپنی

ہاں مگر میری کائنات سمجھ

کُوزہ گر سے ملائے کُوزے کو

تُو قضا کو بھی یوں حیات سمجھ

پھر سویرا بھی آئے گا، لیکن

شام کے بعد ہو گی رات، سمجھ

وہ نہیں بے وفا، ذرا ان کی

اے مِرے دل تُو مشکلات سمجھ

وصل کو اور فراق کو شہزاد

ایک اُمید، مُمکنات سمجھ


شہزاد حیدر

No comments:

Post a Comment