غموں کا یہ بوجھ لاد کر زندگی کی گاڑی کو کھینچ لوں گا
کبھی جو رونا بھی آ گیا تو میں اپنے ہونٹوں کو بھینچ لوں گا
غزل لکھوں گا، امر کروں گا، میں اتنی ساری محبتوں کو
اکیلا چاہت کے بیل بوٹے لہو سے اپنے میں سینچ لوں گا
خدا نے چاہا وہ لوٹ آیا اگر دوبارہ،۔ تو یوں کروں گا
اسےمیں جانےنہ دوں گا پھر سے، لگا کےسینےسےبھینچ لوں گا
اگر مجھے چھوڑ کر وہ جانا بھی چاہے، جائے گا پر کہاں تک
وہ جیسے چڑھنے لگے گا بس پر، پکڑ کے بازو میں کھینچ لوں گا
وہ اپنے تارِ نظر سے کھینچے گا میرے دل کو اگر کبھی بھی
تو میں بھی عمران ان نگاہوں سے اس کی تصویر کھینچ لوں گا
عمران سرگانی
No comments:
Post a Comment