سرکار محبت میں تو نقصان بہت ہے
اک جان ہے اور سانس کا فقدان بہت ہے
تعظیم ضروری ہے یہاں اہلِ ادب کی
مانا کہ دلِ ذوق پریشان بہت ہے
افتاد کے صحرا میں بھٹکتا ہے مسافر
اور یاس کی ریتی بھی پشیمان بہت ہے
مغموم فضائیں ہیں گلستان کی دیکھو
لیکن یہ صبا گُل کی قدردان بہت ہے
ہر آنکھ میں کچھ خواب سدا رہتے ہیں، سُن کر
یہ چشمِ نا بِینا مِری حیران بہت ہے
مانا کہ نہیں حُسنِ عمل کوئی مِرے پاس
بخشش کو مِری آپﷺ پہ ایمان بہت ہے
منزل کی طلب دل میں جو شہزاد ہو پختہ
پھر راہ کٹھن بھی یہاں آسان بہت ہے
شہزاد حیدر
No comments:
Post a Comment