Saturday, 19 June 2021

آثار کے اطراف میں ابہام پڑے ہیں

 آثار کے اطراف میں ابہام پڑے ہیں

کچھ نقش تخیل میں ابھی خام پڑے ہیں

دراصل بڑا کام ہے احساس نبھانا

ورنہ تو ہمارے بھی بڑے کام پڑے ہیں

تم داد طلب کیوں ہو بھلا نام وروں سے

کیکر کے درختوں پہ کبھی آم پڑے ہیں

سچ ہے کہ خدا ہے تو اسے ڈھونڈنا کیسا

پھر ڈھونڈنے والے بھی تو ناکام پڑے ہیں

ہم بگڑے ہوئے بچھڑے ہوئے اُجڑے ہوئے لوگ

ہم جیسوں کے دنیا میں کئی نام پڑے ہیں

حیرت ہے کہ اس وقت کے کچھ اتنے بڑے نام

تاریخ کی دہلیز پہ گمنام پڑے ہیں

کچھ کم تو نہیں اگلے جہانوں کی مشقت

کچھ دیر میسر ہے جو آرام، پڑے ہیں


مدثر عباس

No comments:

Post a Comment