Monday, 14 June 2021

مری جاں عجیب یہ مخمصہ ہے غبار میں

 مِری جاں عجیب یہ مخمصہ ہے غُبار میں

تو وہی ہے یا کوئی واہمہ ہے غبار میں؟

کوئی آنکھ ہے مجھے کھوجتی ہے جو ہر گھڑی

کوئی شخص ہے، مجھے دیکھتا ہے غبار میں

کسی خوش جمال کو چھُو کے آئی ہوائے دشت

کوئی پُر خُمار سا ذائقہ ہے غبار میں

تِرا کیا کہوں مجھے اپنی شکل بھی بُھل گئی

کہ اٹا ہوا مِرا حافظہ ہے غبار میں

مِرا کارواں یہ ابھی تلک نہ سمجھ سکا

کوئی راہزن ہے کہ رہنما ہے غبار میں

رہِ عشق میں لگے ہر قدم پہ نجانے کیوں

یہیں منتظر کوئی حادثہ ہے غبار میں

کہیں آندھیوں میں اُجڑ گیا کوئی گھونسلہ

کہیں رو رہی کوئی فاختہ ہے غبار میں

سو میں عارف آج تلک یقین نہ کر سکا

کہ تڑخ چکا مِرا آئینہ ہے غبار میں


عارف نسیم فیضی

No comments:

Post a Comment