بچھڑ کے تجھ سے زمانے کو میں نے عاق کیا
سبھو کیا، ہاں، گریبان بس نہ چاک کیا
یہ تیرے جانے پہ دل مطمئن بھلا کیوں ہے
میں کر ہی سکتا تھا کیا، جو کیا سو خاک کیا
میرے وجود کی تو کرچیاں بھی اب نہ ملیں
کچھ اس طرح میرا تُو نے حساب باق کیا
میں جانتا ہی نہ تھا عشق و عاشقی کیا ہے
تمہارا شکریہ اس فن میں مجھ کو طاق کیا
کہانی منطقی انجام کو پہنچ بھی گئی
نہیں، مگر کیوں، میرے ساتھ یہ مذاق کیا
یہی تھی وجہہِ جدائی کہ میں نے جانِ کمیل
ہمیشہ بات تمہاری سے اتفاق کیا
کمیل جعفری
No comments:
Post a Comment