سچ ہے کہ میرے حق میں گواہی نہیں کوئی
اس شہر بے اماں میں بچا ہی نہیں کوئی
کیا وقتِ قتل آخری خواہش کا پوچھنا
ارماں ہمارے دل میں رہا ہی نہیں کوئی
اس تیرگی میں راہ جو پائیں تو کس طرح
ہاتھوں میں رہبروں کے دیا ہی نہیں کوئی
کیسا عجیب دن ہے نہ کچھ بھی دکھائی دے
سورج تو ہے فلک پہ ضیا ہی نہیں کوئی
کیسے رکھیں توقع کسی بہتری کی ہم
ماؤں کے لب پہ حرفِ دعا ہی نہیں کوئی
اس دشت بےاماں کی بلا خیز دھوپ میں
جو سر پہ تان لیں وہ ردا ہی نہیں کوئی
بزمِ امیرِ شہر نہیں مے کدہ ہے یہ
جو دل میں ہے کہو کہ منا ہی نہیں کوئی
بہتر ہے خود ہی آگ لگا دیجئے اسے
جس میکدے میں جامِ بقا ہی نہیں کوئی
الزام نقش گر پہ ہے کس بات کا کہ رنگ
اے لوحِ آب تجھ پہ جما ہی نہیں کوئی
عارف ترا علاج ہے اب موت ہی فقط
اس رنج کی جہاں میں شفا ہی نہیں کوئی
عارف نسیم فیضی
No comments:
Post a Comment