Monday, 14 June 2021

کس کی آنکھوں کی ہدایت سے مجھے دیکھتا ہے

 کس کی آنکھوں کی ہدایت سے مجھے دیکھتا ہے

آئینہ اپنی فراست سے مجھے دیکھتا ہے

جب سے اترے ہیں مِرے دل پہ یہ آلام زمیں

آسماں جھک کے رفاقت سے مجھے دیکھتا ہے

میں گنہ گار ہوں آنکھوں میں ابھی تک اپنی

جانے وہ کس کی نیابت سے مجھے دیکھتا ہے

مائل رقص نہیں پاؤں میں زنجیر نہیں

پھر بھی زنداں ہے کہ وحشت سے مجھے دیکھتا ہے

ایک دن ڈالی تھی بنیاد مشقت کی یہاں

اب یہ صحرا بھی محبت سے مجھے دیکھتا ہے

دل کی آواز پہ نکلا تھا بغاوت کے لیے

شہر کا شہر حمایت سے مجھے دیکھتا ہے

روشنی چھائی ہوئی رہتی ہے اب مجھ پہ

کوئی تو ہے جو عنایت سے مجھے دیکھتا ہے


راشد طراز

No comments:

Post a Comment