Monday, 14 June 2021

وہ کتنی دیر کھڑا سوچتا رہا مجھ کو

 وہ کتنی دیر کھڑا سوچتا رہا مجھ کو

گلے لگا تو پتہ بھی نہیں چلا مجھ کو

نجانے میں تیرے پہلو میں کیسے بیٹھ گیا

میری جگہ ہی نہیں ہے ابھی اٹھا مجھ کو

تیرے خیال سے بڑھ کر ہے خالی پن میرا

کہاں کہاں سے بھرے گا تیرا خلا مجھ کو

وہ میرے سامنے توہین کر گیا میری

اور اس پہ یہ کہ بُرا بھی نہیں لگا مجھ کو

میں پہلی بار ہوں زیر مطالعہ دانش

ابھی کہیں پہ نشاں تک نہیں لگا مجھ کو


دانش نقوی

No comments:

Post a Comment