وہ کتنی دیر کھڑا سوچتا رہا مجھ کو
گلے لگا تو پتہ بھی نہیں چلا مجھ کو
نجانے میں تیرے پہلو میں کیسے بیٹھ گیا
میری جگہ ہی نہیں ہے ابھی اٹھا مجھ کو
تیرے خیال سے بڑھ کر ہے خالی پن میرا
کہاں کہاں سے بھرے گا تیرا خلا مجھ کو
وہ میرے سامنے توہین کر گیا میری
اور اس پہ یہ کہ بُرا بھی نہیں لگا مجھ کو
میں پہلی بار ہوں زیر مطالعہ دانش
ابھی کہیں پہ نشاں تک نہیں لگا مجھ کو
دانش نقوی
No comments:
Post a Comment