دل میں یادوں کا اک سلسلہ رہ گیا
چل دئیے لوگ میں دیکھتا رہ گیا
دل میں جو بات تھی ان کہی رہ گئی
حشر دل میں بپا کا بپا رہ گیا
خواب تعبیر سے ناشناسا رہے
جو بھی نغمہ تھا وہ بے صدا رہ گیا
اس کو پایا تھا دنیا لٹا کر مگر
وہ جو بچھڑا تو دامن میں کیا رہ گیا
وصل کی رات رخصت ہوئی سو ہوئی
آنکھ میں اک عجب سا نشہ رہ گیا
ساتھ چھوڑا ستاروں نے مہتاب نے
بس تِرے پیار کا اک دِیا رہ گیا
جتنے تعبیر تھے راہ میں چھن گئے
میری آنکھوں میں اک خواب سا رہ گیا
رشتے ناتے بس اک پل میں چھوٹے سبھی
ایک میں ایک میرا خدا رہ گیا
اور عارف نہیں کوئی زادِ سفر
ہاں لبوں پر جو حرفِ دعا رہ گیا
عارف نسیم فیضی
No comments:
Post a Comment