Friday, 18 June 2021

دل میں یادوں کا اک سلسلہ رہ گیا

 دل میں یادوں کا اک سلسلہ رہ گیا

چل دئیے لوگ میں دیکھتا رہ گیا

دل میں جو بات تھی ان کہی رہ گئی

حشر دل میں بپا کا بپا رہ گیا 

خواب تعبیر سے ناشناسا رہے

جو بھی نغمہ تھا وہ بے صدا رہ گیا

اس کو پایا تھا دنیا لٹا کر مگر

وہ جو بچھڑا تو دامن میں کیا رہ گیا

وصل کی رات رخصت ہوئی سو ہوئی

آنکھ میں اک عجب سا نشہ رہ گیا

ساتھ چھوڑا ستاروں نے مہتاب نے

بس تِرے پیار کا اک دِیا رہ گیا

جتنے تعبیر تھے راہ میں چھن گئے

میری آنکھوں میں اک خواب سا رہ گیا

رشتے ناتے بس اک پل میں چھوٹے سبھی

 ایک میں ایک میرا خدا رہ گیا

اور عارف نہیں کوئی زادِ سفر

ہاں لبوں پر جو حرفِ دعا رہ گیا 


عارف نسیم فیضی

No comments:

Post a Comment