Friday, 18 June 2021

جب ایک راجہ کو رانی اداس کرتی ہے

 جب ایک راجہ کو رانی اُداس کرتی ہے

پھر اس کے بعد کہانی اداس کرتی ہے

کبھی کسی کا بچھڑنا بہت رُلاتا یے

کبھی کسی کی نشانی اداس کرتی ہے

یہ پیڑ خالی مکانوں کا دُکھ سمجھتے ہیں

انہیں بھی نقل مکانی اداس کرتی ہے

کہیں کہیں پہ غزل مسکرا کے ملتی ہے

کہیں کہیں پہ معانی اداس کرتی ہے

کسی کسی پہ ہی کھلتا ہے بھید منظر کا

کسی کسی کو کہانی اداس کرتی ہے

اسے ہمارے رویۓ پہ اعتراض نہیں

اسے ہماری روانی اداس کرتی ہے

کوئی کوئی تو تجھے دیکھتا ہے جیتا ہے

کسی کو تیری جوانی اداس کرتی ہے

سو اب تو اپنی سنا تیرے ساتھ کیا ہوا تھا

مِری کہانی تو جانی اداس کرتی ہے


عباس مرزا

No comments:

Post a Comment