پہنوں گی چوڑی ہجر کی خالی کلائی میں
ممکن ہے خامشی کو بھی دوں گی سنائی میں
گریہ کریں گی رات کا، کانوں میں بالیاں
جب صبحِ بدگمان کو دوں گی دکھائی میں
رستہ نہ روکتی مِرا دیوار دھوپ کی
دیتی اگرچہ پیڑوں کو اپنی صفائی میں
سرخی کا رنگ لب پہ شکایت میں ڈھل گیا
کیوں آئینے کے سامنے بے کار آئی میں
آنکھوں میں ایک آس کا سرمہ میں ڈال کر
سہہ لوں گی عمر بھر کی اداسی جدائی میں
خالی مکاں میں ہجر کی ڈائن تھی ناچتی
رہنا محال تھا وہاں، سو لوٹ آئی میں
دریا مِری تلاش میں بھٹکے گا در بدر
صحرا میں دوں جو پیاس کی سعدی دہائی میں
سعدیہ صفدر سعدی
No comments:
Post a Comment