ہم سے اداس لوگوں کو یوں آنکھ بھر کے مت دیکھو
مان لو ہم ٹھیک ہیں، دل میں اُتر کے مت دیکھو
آنکھ میں اُتر آؤ کہ دل کے دروں پہ قُفل ہے
مکان تک رہو پیارے خواب گھر کے مت دیکھو
محبتوں کے سب نتائج ہم سے دل خراش ہیں
ہم مُستند حوالہ ہیں تجربہ کر کے مت دیکھو
بس ذرا غمگین ہوں، مر تو نہیں رہا ہوں میں
حیرانگی تو ٹھیک ہے پر ایسے ڈر کے مت دیکھو
مسکراہٹ دیکھ کر یہ نہ پوچھو کہ خوش بھی ہوں
باہری منظر کو دیکھو، پیچھے در کے مت دیکھو
عین ممکن ہے تمہیں آگے ملے کوئی زندگی
تھوڑا صبر سے کام لو ابھی یوں مر کے مت دیکھو
بوڑھی آنکھوں سے کہو یوسف پلٹنے کا نہیں
تم نہیں یعقوب سو رستے شہر کے مت دیکھو
میری آنکھیں پڑھ کے اب کیوں ہو گئے وحشت زدہ
واصف تمہیں روکا بھی تھا اندر قبر کے مت دیکھو
واصف اسلم
No comments:
Post a Comment