کس طرح شام و سحر شور میں رہتی ہو گی
کتنی مشکل سے وہ لاہور میں رہتی ہو گی
میں بھی اس شوخ کی چاہت میں ہوں بے تاب میاں
وہ بھی ہر وقت مِرے غور میں رہتی ہو گی
اس کے لہجے سے جھلکتی نہیں دِلّی کی زباں
پانی پت یا کہیں بنگلور میں رہتی ہو گی
میں بھی جکڑا ہوں رواجوں کے کڑے بندھن میں
وہ بھی رسموں کی کسی ڈور میں رہتی ہو گی
چاند کے حسن پہ لکھتی ہے جو نظمیں قیصر
وہ بھی ماضی کے کسی دور میں رہتی ہو گی
علی قیصر رومی
No comments:
Post a Comment