Friday, 18 June 2021

کوئی بات کرو

 کوئی بات کرو


منہ بسورے یہ شام کھڑکی پر

آن بیٹھی ہے دوپہر ہی سے

دل کہ جیسے خزاں زدہ پتہ

ٹوٹنے کو ہے

کوئی بات کرو


ترنم ریاض

No comments:

Post a Comment