یونہی بے ربط سے فقرے تھے اور باتیں سراسیمہ
نجانے کس لیے کل شب تھیں وہ آنکھیں سراسیمہ
نئی اک کربلا ہر دن بپا ہوتی ہے بستی میں
دعائیں خون آلودہ ہیں، اور آہیں سراسیمہ
وہ دیکھو اس شجر کا حال بھی کچھ مجھ سے ملتا ہے
کہ پتے زرد، گُل افسُردہ ہیں شاخیں سراسیمہ
بچھڑتے وقت کے منظر کی وہ تاثیر زہریلی
کہ اس ساعت کی ہیں اب تک سبھی یادیں سراسیمہ
کہاں پر لا کے چھوڑا کارواں کو رہنماؤں نے
منازل کُہر میں گُم اور ہیں راہیں سراسیمہ
کیلنڈر ہی بدلتے ہیں فقط ورنہ تو ہیں عارف
وہی وحشت زدہ صبحیں، وہی شامیں سراسیمہ
عارف نسیم فیضی
No comments:
Post a Comment