Tuesday, 15 June 2021

یونہی بے ربط سے فقرے تھے اور باتیں سراسیمہ

 یونہی بے ربط سے فقرے تھے اور باتیں سراسیمہ

نجانے کس لیے کل شب تھیں وہ آنکھیں سراسیمہ

نئی اک کربلا ہر دن بپا ہوتی ہے بستی میں

دعائیں خون آلودہ ہیں، اور آہیں سراسیمہ

وہ دیکھو اس شجر کا حال بھی کچھ مجھ سے ملتا ہے

کہ پتے زرد، گُل افسُردہ ہیں شاخیں سراسیمہ

بچھڑتے وقت کے منظر کی وہ تاثیر زہریلی

کہ اس ساعت کی ہیں اب تک سبھی یادیں سراسیمہ

کہاں پر لا کے چھوڑا کارواں کو رہنماؤں نے

منازل کُہر میں گُم اور ہیں راہیں سراسیمہ

کیلنڈر ہی بدلتے ہیں فقط ورنہ تو ہیں عارف

وہی وحشت زدہ صبحیں، وہی شامیں سراسیمہ


عارف نسیم فیضی

No comments:

Post a Comment