تم نے تو بات کی ہے بہت ہی کمال کی
لیکن بجھی نہ پیاس ہمارے سوال کی
طعنہ سنا کہ مفت کی کھاتے ہو تم میاں
رانجھے نے عشق کر لیا، روزی حلال کی
ہرنی نے چوکڑی بھری اور چل پڑی ہوا
میں بات کر رہا تھا تِری چال ڈھال کی
میں یوں بھی ناقدین سے رہتا ہوں دور دور
کمبخت کھال اُتارنے لگتے ہیں بال کی
اب تاج اُتار دیجیے صاحب یہ دشت ہے
یہ جا نہیں حضور کے جاہ و جلال کی
ممتاز گورمانی
No comments:
Post a Comment