Monday, 14 June 2021

کہہ گیا ہوں جو میں روانی میں

 کہہ گیا ہوں جو میں روانی میں

وہ تو شامل نہ تھا کہانی میں

کوئی لغزش، گناہ، توبہ کر

نیک بچہ تھا میں جوانی میں

رنگ کالا بھی اس پہ جچتا ہے

پر جو لگتی ہے آسمانی میں

پاؤں دریا میں ڈال کر بولی

ایسے لگتی ہے آگ پانی میں

میں اگر خود کو مار ڈالوں تو

کیا بچے گا تِری کہانی میں


خالد ندیم شانی

No comments:

Post a Comment