Monday, 14 June 2021

غلام سر پہ عبادت ابھی نہ رکھی جائے

 غلام سر پہ عبادت ابھی نہ رکھی جائے

خدا کے نام بغاوت ابھی نہ رکھی جائے

میں ٹھیک ٹھاک تو کر لوں حسب نسب اپنا

لہو پہ شرط ندامت ابھی نہ رکھی جائے

کہ جس کی آنچ سے جبریل آگہی جھُلسیں

انا میں اتنی تمازت ابھی نہ رکھی جائے

ہمارے شہر کی مٹی ہے شر پسند بہت

یہاں فصیلِ حفاظت ابھی نہ رکھی جائے

بہشت رنگ مرادوں کی جا نمازوں پر

منافقوں کی سیاست ابھی نہ رکھی جائے

سفید پوشیٔ ذِلت بہت ہے جینے کو

سر جناب شرافت ابھی نہ رکھی جائے

ہمارے خوں سے عبارت ہے شجرۂ تہذیب

یہاں پہ مہر سیادت ابھی نہ رکھی جائے


خورشید اکبر

No comments:

Post a Comment