Monday, 14 June 2021

سامنے رہ کر نہ ہونا مسئلہ میرا بھی ہے

 سامنے رہ کر نہ ہونا مسئلہ میرا بھی ہے

اس کہانی میں اضافی تذکرہ میرا بھی ہے

بے سبب آوارگی مصروف رکھتی ہے مجھے

رات دن بے کار پھرنا مشغلہ میرا بھی ہے

بات کر فرہاد سے بھی انتہائے عشق پر

مشورہ مجھ سے بھی کر کچھ تجربہ میرا بھی ہے

کیا ضروری ہے اندھیرے میں تِرا تنہا سفر

جس پہ چلنا ہے تجھے وہ راستہ میرا بھی ہے

ہے کوئی جس کی لگن گردش میں رکھتی ہے مجھے

ایک نکتے کی کشش سے دائرہ میرا بھی ہے

بے سبب یہ رقص ہے میرا بھی اپنے سامنے

عکس وحشت ہے مجھے بھی آئنہ میرا بھی ہے

ایک گم کردہ گلی میں ایک ناموجود گھر

کوچۂ عشاق میں عاصم پتہ میرا بھی ہے


صباحت عاصم واسطی

No comments:

Post a Comment