Monday, 14 June 2021

بہتے ہوئے اشکوں کی روانی نہیں لکھی

 بہتے ہوئے اشکوں کی روانی نہیں لکھی

میں نے غم ہجراں کی کہانی نہیں لکھی

جس دن سے تِرے ہاتھ سے چھُوٹا ہے مِرا ہاتھ

اس دن سے کوئی شام سہانی نہیں لکھی

کیا جانئے کیا سوچ کے افسردہ ہوا دل

میں نے تو کوئی بات پرانی نہیں لکھی

الفاظ سے کاغذ پہ سجائی ہے جو دنیا

جز اپنے کوئی چیز بھی فانی نہیں لکھی

تشہیر تو مقصود نہیں قصۂ دل کی

سو تجھ کو لکھا تیری نشانی نہیں لکھی


عنبرین حسیب عنبر

No comments:

Post a Comment