آپ کا حکم سائیں آپ پہ واری آنکھیں
ہم کو زیادہ نہیں ہیں آپ سے پیاری آنکھیں
آپ کی دید کے صدقے اتارتی سائیاں
ہو گئیں دیکھ کر خوش بخت ہماری آنکھیں
آپ کا ذکر چلاجب کسی بھی محفل میں
ہم پہ اٹھنے لگیں ساری کی ساری آنکھیں
آئینہ آپ پر ہر راز عیاں کر دے گا
مانگ کر دیکھئے ہماری ادھاری آنکھیں
من کے مندر میں کوئی یاد کی گھنٹی سی بجی
دیکھنے کو ہوئیں بے چین پُجاری آنکھیں
دِید مقصود ہوئی آپ کی جب جب ہم کو
اشکوں سے دھویا ہم نے اپنی نتھاری آنکھیں
حقیقت چھینتے لوگ خواب نوچ لیتے ہیں
ایسے ہر امتحان سے ہم نے گُزاری آنکھیں
آپ کو دیکھنے سے رونقیں ہیں سب سائیاں
آپ کے نام کے کاجل سے سنواری آنکھیں
صائمہ یوسفزئی
No comments:
Post a Comment