Tuesday, 15 June 2021

آپ کا حکم سائیں آپ پہ واری آنکھیں

 آپ کا حکم سائیں آپ پہ واری آنکھیں

ہم کو زیادہ نہیں ہیں آپ سے پیاری آنکھیں

آپ کی دید کے صدقے اتارتی سائیاں

ہو گئیں دیکھ کر خوش بخت ہماری آنکھیں

آپ کا ذکر چلاجب کسی بھی محفل میں

ہم پہ اٹھنے لگیں ساری کی ساری آنکھیں

آئینہ آپ پر ہر راز عیاں کر دے گا

مانگ کر دیکھئے ہماری ادھاری آنکھیں

من کے مندر میں کوئی یاد کی گھنٹی سی بجی

دیکھنے کو ہوئیں بے چین پُجاری آنکھیں

دِید مقصود ہوئی آپ کی جب جب ہم کو

اشکوں سے دھویا ہم نے اپنی نتھاری آنکھیں

حقیقت چھینتے لوگ خواب نوچ لیتے ہیں

ایسے ہر امتحان سے ہم نے گُزاری آنکھیں

آپ کو دیکھنے سے رونقیں ہیں سب سائیاں

آپ کے نام کے کاجل سے سنواری آنکھیں


صائمہ یوسفزئی

No comments:

Post a Comment