Tuesday, 15 June 2021

دن بہت سفاک نکلا رات سب دکھ سہہ گئی

 دن بہت سفّاک نکلا رات سب دُکھ سہہ گئی

دانت میں انگلی دبائے شام تنہا رہ گئی

سنگریزوں کی طرح بکھری پڑی ہیں خواہشیں

دیکھتے ہی دیکھتے کس کی حویلی ڈھ گئی

صندلی خوابوں میں لپٹے تھے ہزاروں اژدہے

اور پھر تاثیر جسم و جاں میں تہہ در تہہ گئی

بے مروت ساعتوں کو روئیے کیوں عمر بھر

ایک شے آنکھوں میں جو رہتی تھی کب کی بہہ گئی

گھر کی دیواروں پہ سبزہ بن کے اُگنا تھا مجھے

اک ہوا صحرا سے آئی کان میں کچھ کہہ گئی


خورشید اکبر

No comments:

Post a Comment