زندگی دے دو
ہماری شرط اتنی ہے
ذرا سا مسکرا دینا
زمیں دل کی جو بنجر ہے
ذرا سرسبز ہوگی پھر
اندھیری رات کی مانند
سیاہ دل کی جو نگری ہے
اسے روشن کرو آ کر
ذرا سی روشنی دے دو
اگر ممکن ہو تو سن لو
اسے اپنی ہنسی دے دو
مری سانسیں ہیں رکنے کو
انہیں تم زندگی دے دو
زوہیب حسن
No comments:
Post a Comment