Thursday, 10 February 2022

مری سانسیں ہیں رکنے کو انہیں تم زندگی دے دو

زندگی دے دو


ہماری شرط اتنی ہے

ذرا سا مسکرا دینا

زمیں دل کی جو بنجر ہے

ذرا سرسبز ہوگی پھر

اندھیری رات کی مانند

سیاہ دل کی جو نگری ہے

اسے روشن کرو آ کر

ذرا سی روشنی دے دو

اگر ممکن ہو تو سن لو

اسے اپنی ہنسی دے دو

مری سانسیں ہیں رکنے کو

انہیں تم زندگی دے دو


زوہیب حسن

No comments:

Post a Comment