Saturday, 18 December 2021

اپنے پیروں پہ کسی طور کھڑے ہوتے نہیں

اپنے پیروں پہ کسی طور کھڑے ہوتے نہیں 

بوڑھے ہو جاتے ہیں ہم لوگ بڑے ہوتے نہیں 

صبر و خاموشی کی زنجیر جکڑ لیتی ہے 

اب کلائی میں بغاوت کے کڑے ہوتے نہیں 

حلقۂ عشق میں سب چاک دِلاں ملتے ہیں 

اس قبیلے میں کوئی خاص دھڑے ہوتے نہیں 

ایسے اس شخص کے لہجے سے پگھل جاتے ہیں 

جیسے ہم لوگ کبھی ضد پہ اڑے ہوتے نہیں 

ٹھوکروں بعد کہیں نظروں میں آتے ہیں عقیل

ہم انگوٹھی میں نگینے تو جڑے ہوتے نہیں 


عقیل عباس چغتائی

No comments:

Post a Comment