Thursday, 10 March 2022

تو بھی وفا کے روپ میں اب ڈھل کے دیکھ لے

تو بھی وفا کے روپ میں اب ڈھل کے دیکھ لے

اس آگ میں ہماری طرح جل کے دیکھ لے

دشت طلب میں پیار کے غنچے بھی کھل اٹھیں

کچھ روز میرے ساتھ کبھی چل کے دیکھ لے

ممکن ہے کوئی صبح تمنا ہو اس کے بعد

اے حسرتوں کی رات ذرا ڈھل کے دیکھ لے

کچھ گرد باد غم کے امیدوں کے کچھ سراب

منظر ہمارے دل میں کوئی تھل کے دیکھ لے

رکھتے ہیں ہم بھی جرأت اظہار زندگی

محرومیوں کا خوف اگر ٹل کے دیکھ لے

اس دل میں ہو چکا ہے بہت ولولوں کا خون

اے جذب شوق تو بھی یہاں پل کے دیکھ لے

اظہر! ترا نصیب ہے یہ شبنمی بہار

چہرے پہ تو بھی رنگ خزاں مل کے دیکھ لے


اظہر جاوید

No comments:

Post a Comment