پھر آج رات میں ان سے ہے گفتگو ممکن
یہ بات شہر میں گونجے گی چار سُو ممکن
جو دل کے آئینہ خانے میں قید ہے اب تک
لبوں پہ آئے گی اک دن وہ آرزو ممکن
رہیں گے فاصلے حائل یوں درمیاں کب تک
ملیں گے مجھ سے کسی دن وہ روبرو ممکن
تمہارا نام میرے لب پہ جس گھڑی آئے
یہ کوششیں ہیں رہوں تب میں باوضو ممکن
دل و نگاہ سبھی اک جھلک میں کہہ اٹھے
نہیں ہے تم سا جہاں بھر میں خوبرو ممکن
اسد ہاشمی
No comments:
Post a Comment