ایسی بستی میں لے چلو کہ جہاں
ایسی بستی میں لے چلو کہ جہاں
شب دریچوں سے پیار کرتی ہو
روشنی روشنی پہ مرتی ہو
در بدر خاک ہو خزاؤں کی
ہر طرف بات ہو بہاروں کی
ایسی بستی میں لے چلو کہ جہاں
پھول چہرہ، کتاب آنکھیں ہوں
رقص کرتی شراب آنکھیں ہوں
آگہی بھول جائے زخموں کو
نغمگی راس آئے نغموں کو
ایسی بستی میں لے چلو کہ جہاں
حکمرانوں کے قول پکے ہوں
کاہنوں کے حساب سچے ہوں
دیوتا سجدہ ریز ہوتے ہوں
سر اٹھا کر غلام چلتے ہوں
ایسی بستی میں لے چلو کہ جہاں
علم کو فکر سے ہدایت ہو
خار کو پھول کی حمایت ہو
شاعروں پر عذاب جاری ہو
محفلوں پر خمار طاری ہو
ایسی بستی میں لے چلو کہ جہاں
چاند کرنیں شمار کرتا ہو
زر دیانت سے گھر بدلتا ہو
محنتیں اجرتوں کا محور ہوں
عزتیں آبرو کا تیور ہوں
ایسی بستی میں لے چلو کہ جہاں
دل کو تیرا خیال آجائے
رقص کو بھی دھمال آجائے
مرغزاروں میں پھول کِھلتے ہوں
رنگ اور نور سے لپٹتے ہوں
ایسی بستی میں لے چلو کہ جہاں
سہیل احمد
No comments:
Post a Comment