Friday, 4 March 2022

نظر عذابوں میں گھر گئی ہے سخن سرابوں میں آ گیا ہے

 نظر عذابوں میں گھر گئی ہے سخن سرابوں میں آ گیا ہے

سنا ہے اب کے بہار موسم خزاں کی باتوں میں آ گیا ہے

یہ کیا غضب ہے کہ جس نے عہد بہار چاہا نہ عشق دیکھا

نظام ہجر و وصال سارا اسی کے ہاتھوں میں آ گیا ہے

بہار تو اک مغالطہ ہے خزاں کی روپوش حیرتوں کا

جو اس طلسم جہاں سے گزرا وہ داستانوں میں آ گیا ہے

وہ جس کے دامن میں شاعری تھی بہار لہجے کی لٹ لٹا کر

اے رب لفظ و بیاں وہ شاعر تری پناہوں میں آ گیا ہے

بہار کیا اب خزاں بھی دیکھے غرور حسن سخنوری میں

جو آسمانوں میں جا بسا تھا زمیں کے قدموں میں آ گیا ہے

بہار رت میں بچھڑ کے تجھ سے جو دل پہ گزری وہ دل ہی جانے

ہمیں تو اتنا پتا ہے یارو لہو تک آنکھوں میں آ گیا ہے


منور جمیل قریشی

No comments:

Post a Comment