آسرا
زندگی کے اندھیرے اجالے کے بیچ
داتا کی نگری میں
بُلھے کے شعروں میں
ہر آغاز میں
ہر انجام میں
رومی تھا، سعدی تھا
یا مفکر کوئی
کوئی منصف نِرا، کوئی حاکم بھلا
کوئی بابِ علم
کوئی خوش الحان
کوئی صبر و رضا کوئی قہر و جفا
کوئی شاعر بھلے یا قلندری صدا
سب کو پرکھا بہت
سب کو جانا بہت
سلسلے تھے بہت صبح کے شام کے
ہر ذی ہوش کے ہر الہام کے
پر میرا آسرا
وہ میرا رب ہی ہے
وہ میرا رب ہی تھا
پونم نورین گوندل
No comments:
Post a Comment