گلے ملتے ہوئے واپس پلٹ جائے گا صاحب
غبارہ دھوپ میں جاتے ہی پھٹ جائے گا صاحب
ہمارے دل پہ جتنے لوگ قابض ہو رہے ہیں
یہ پتھر تو کئی ٹکڑوں میں بٹ جائے گا صاحب
مصیبت میں سہارے کی طلب کس کو نہیں ہے
اندھیرا روشنی سے خود لپٹ جائے گا صاحب
دلوں میں رہنے والے کل لبوں پر آ رہیں گے
بدن کا خون آنکھوں میں سمٹ جائے گا صاحب
ہمارے شر سے کوئی چیز کیسے بچ سکے گی
مجھے لگتا ہے یہ جنگل بھی کٹ جائے گا صاحب
محبت میں اناڑی پن بہت نقصان دہ ہے 💓
یہ جھولا پہلے چکر میں الٹ جائے گا صاحب
اگر کچھ پوچھنا ہے اپنے صحراؤں سے پوچھیں
سمندر آپ کے رستے سے ہٹ جائے گا صاحب
حمزہ یعقوب
No comments:
Post a Comment