Friday, 4 March 2022

گلے ملتے ہوئے واپس پلٹ جائے گا صاحب

 گلے ملتے ہوئے واپس پلٹ جائے گا صاحب 

غبارہ دھوپ میں جاتے ہی پھٹ جائے گا صاحب 

ہمارے دل پہ جتنے لوگ قابض ہو رہے ہیں 

یہ پتھر تو کئی ٹکڑوں میں بٹ جائے گا صاحب 

مصیبت میں سہارے کی طلب کس کو نہیں ہے 

اندھیرا روشنی سے خود لپٹ جائے گا صاحب 

دلوں میں رہنے والے کل لبوں پر آ رہیں گے 

بدن کا خون آنکھوں میں سمٹ جائے گا صاحب 

ہمارے شر سے کوئی چیز کیسے بچ سکے گی 

مجھے لگتا ہے یہ جنگل بھی کٹ جائے گا صاحب 

محبت میں اناڑی پن بہت نقصان دہ ہے 💓

یہ جھولا پہلے چکر میں الٹ جائے گا صاحب 

اگر کچھ پوچھنا ہے اپنے صحراؤں سے پوچھیں 

سمندر آپ کے رستے سے ہٹ جائے گا صاحب 


حمزہ یعقوب

No comments:

Post a Comment