میں اس سے اس کو ہی مانگ لایا تو میرا اس میں کمال بھی ہے
وہ کہہ رہا تھا؛ مجھے بتاؤ، کوئی تمہارا سوال بھی ہے؟
کوئی تو بولے تماشے والے اسے تماشہ سمجھ رہے ہیں
وہ آئینے سے یہ کہہ رہا ہے کوئی تمہاری مثال بھی ہے
مجھے تو میرے قبیلے والوں نے وہ کہانی سنائی جس میں
کہیں کہیں پر عروج لیکن کہیں کہیں پر زوال بھی ہے
بچھڑ کے مجھ سے وہ پہلے خوش تھا مگر یہ سچ ہے کئی دنوں سے
فقط اداسی نہیں ہے چہرے پہ اس کے تھوڑا ملال بھی ہے
تم اس طرف سے کرو گے وعدہ کے تیر آنے نہ پائے کوئی
میں اس طرف سے تو یہ کہوں گا کسی کی کوئی مجال بھی ہے
کامران اسیر
No comments:
Post a Comment