Friday, 4 March 2022

ممکن نہیں وہ شاخ ثمربار رہی ہو

 ممکن نہیں وہ شاخ ثمر بار رہی ہو

جو باغ کے ماحول سے بیزار رہی ہو 

اس آنکھ کے کوزے میں سمٹ آتی ہے دنیا

جو گردشِ ایام میں بیدار رہی ہو 

واقف ہوں تِری ذات کے ہرطرز ہنر سے

جیسے کہ مِری زیست کا کردار رہی ہو

یوں خاک مِری مجھ سے گریزاں ہے کہ جیسے

اک عمر کہیں برسرِ پیکار رہی ہو

افلاک کے پردوں کی خبر ہے تو جنوں دے

گو عقل کئی سال افق پار رہی ہو

ہر ایک جھکے سر پہ اطاعت نہیں لازم

شاید کسی سر پر کبھی دستار رہی ہو

رکھ لیتا ہوں دنیا تجھے تقدیر سمجھ کر

ہر گام تہامی کی طرفدار رہی ہو


شہیر تہامی

No comments:

Post a Comment