ممکن نہیں وہ شاخ ثمر بار رہی ہو
جو باغ کے ماحول سے بیزار رہی ہو
اس آنکھ کے کوزے میں سمٹ آتی ہے دنیا
جو گردشِ ایام میں بیدار رہی ہو
واقف ہوں تِری ذات کے ہرطرز ہنر سے
جیسے کہ مِری زیست کا کردار رہی ہو
یوں خاک مِری مجھ سے گریزاں ہے کہ جیسے
اک عمر کہیں برسرِ پیکار رہی ہو
افلاک کے پردوں کی خبر ہے تو جنوں دے
گو عقل کئی سال افق پار رہی ہو
ہر ایک جھکے سر پہ اطاعت نہیں لازم
شاید کسی سر پر کبھی دستار رہی ہو
رکھ لیتا ہوں دنیا تجھے تقدیر سمجھ کر
ہر گام تہامی کی طرفدار رہی ہو
شہیر تہامی
No comments:
Post a Comment