Friday, 4 March 2022

اب کیا بتاؤں شہر یہ کیسا لگا مجھے

 اب کیا بتاؤں شہر یہ کیسا لگا مجھے

ہر شخص اپنے خون کا پیاسا لگا مجھے

خفگی ہو یا جفائیں ہوں یا مہربانیاں

ہر رنگ چشمِ ناز کا اچھا لگا مجھے

دیکھا جو غور سے تو وہ جھونکا ہوا کا تھا

تم خود ہی چھم سے آئی ہو ایسا لگا مجھے

وہ شخص جس سے پہلے کبھی آشنا نہ تھا

نزدیک سے جو دیکھا تو اپنا لگا مجھے

یوں بھی ملے گی منزل جاناں یقیں نہ تھا

وہ سامنے تھے پھر بھی اک سپنا لگا مجھے


فردوس گیاوی

No comments:

Post a Comment