ہجر ہو یا وصال ہو تو کیا؟
حال سے دل بے حال ہو تو کیا
کچھ دنوں کی ہو بس یہ سرشاری
پھر یہ برسوں ملال ہو تو کیا
کم اداسی نہیں کسی صورت
ہمسفر،۔ ہم خیال ہو تو کیا
کون تجھ سا یہاں حسیں جاناں
لاکھ زہرہ جمال ہو تو کیا
پاس جب تو نہیں مِرے تو پھر
دی ہوئی تیری شال ہو تو کیا
جب تِرا ساتھ ہی نہیں ممکن
پھر خوشی یا ملال ہو تو کیا
سنگ تیرے جی لوں اگر اک پل
پھر جو مجھ کو زوال ہو تو کیا
ارفع کنول
No comments:
Post a Comment